اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق بشکک میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے علاوہ روس، چین، قزاقستان، تاجیکستان، ازبکستان، ہندوستان اور پاکستان کے سربراہان مملکت بھی شریک ہیں۔
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس اجلاس میں کہا ہے کہ امریکہ اقتصادی، مالی اور فوجی توانائیوں کو حربے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جارحانہ رویہ اختیار کر کے علاقے اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لئے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ انتہا پسندی، انارکی اور دیگر ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت نے عالمی برادری کو ایک خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے اور یہ مسئلہ دنیا کے تمام ملکوں کے امن و سلامتی اور مفادات کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
ایران کے صدر نے عراق و شام میں داعش دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں ایران کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے عراق و شام میں قیام امن کے لئے جنگ کی، اقوام متحدہ کے ساتھ مفاہمت کی بنیاد پر افغانستان میں انتہا پسندی کے مقابلے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس وقت بھی وہ یمن میں قیام امن کے لئے اپنی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کر رہا ہے۔
انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ گفتگو اور پڑوسی ملکوں کی جانب سے علاقائی و دو طرفہ تعاون کا راستہ کھلا ہوا ہے، کہا کہ اڑیل رویہ کو ترک کرنا ہوگا اس لئے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ نے کثیر جہتی رجحان کو ایک ضرورت میں تبدیل کر دیا ہے۔
ایران کے صدر نے اسی طرح ایٹمی معاہدے کو کثیر جہتی سفارتکاری کا اہم ترین نتیجہ قرار دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند ہونے کے بارے میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی پندرہ رپورٹوں اور اس بین الاقوامی معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہونے کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران، اس معاہدے کے دائرے میں دیگر شامل ملکوں سے اس بات کا خواہاں ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے اقتصادی مفادات سے ایران کے بہرہ مند ہونے کے سلسلے میں اپنے معاہدوں اور وعدوں پر فوری طور پر عمل کریں۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی شرکت سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کا انیسواں سربراہی اجلاس جمعے کو قرقیزستان کے دارالحکومت بشکک میں شروع ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲